ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

پختونخوا میں مسلسل بڑھتی دہشتگردی؛ 472 افراد شہید، 19 خودکش حملے اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات! 🇵🇰⚠️

پختونخوا میں مسلسل بڑھتی دہشتگردی؛ 472 افراد شہید، 19 خودکش حملے اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات! 🇵🇰⚠️
Spread the love

تاریخ / مقام: پشاور / اسلام آباد

سیاسی و قومی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے لہر نے سنگین نوعیت اختیار کر لی ہے۔ صوبے میں سیکیورٹی خدشات اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر شدید سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

دہشتگردی کے خوفناک اعداد و شمار

وزیر اطلاعات و نشریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال خیبرپختونخوا میں پیش آنے والے دہشتگردانہ واقعات کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور شہریوں سمیت مجموعی طور پر 472 افراد جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جو کہ اوسطاً یومیہ 2 شہادتوں کے برابر ہے۔ صوبے میں روزانہ دہشتگردی کے اوسطاً 10 واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پرتشدد کارروائیوں کے دوران 1 ہزار 584 افراد زخمی یا معذور ہوئے ہیں، جو یومیہ اوسطاً 7 بنتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال صوبے کے اندر 19 خودکش دھماکے بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

افغان دراندازی اور سرحدی چیلنجز

انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال خیبرپختونخوا میں ہونے والے 19 خودکش دھماکوں میں ملوث حملہ آور افغان باشندے تھے۔ دوسری جانب افغان سرزمین سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور دراندازی کے دیگر عوامل نے صوبے کی اندرونی سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

صوبائی حکومت کی پالیسیوں اور نااہلی پر سوالات

رپورٹس کے مطابق ایک طرف جہاں دہشتگردی کے سدباب کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے، وہیں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے لگاتار افغانستان سے مذاکرات پر اصرار کیا جا رہا ہے اور دہشتگردوں کے خلاف بھرپور آپریشنز کی مخالفت سامنے آ رہی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے بھی صوبائی حکومت کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبائی انتظامیہ کی مبینہ نااہلی کے باعث کے پی کو بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور کرائم ٹیرر نیکسز جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ افغان دراندازی پر حکومتی خاموشی بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

انتظامی کوتاہیاں اور سہولت کاری کے الزامات

حکومتی حلقوں اور سیکیورٹی تجزیکار کی جانب سے صوبائی حکومت کو اس بات پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ شہداء کے جنازوں میں شرکت سے گریزاں ہے، اپیکس کمیٹی کے بروقت اجلاس منعقد نہیں کیے جا رہے، اور پولیس بالخصوص کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی استعداد کار بڑھانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس قسم کا رویہ اور انتظامی سستی بالآخر دہشتگردوں کے لیے سہولت کاری کا باعث بن رہا ہے، جس سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔

G24 News Online قومی سلامتی، سیاسی پیش رفت اور صوبائی امور سے جڑی تمام مصدقہ اور غیر جانبدارانہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *